مہر خبررساں ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، سپاہ پاسداران انقلاب اسلامی کے ترجمان سردار حسین محبی نے مہر نیوز سے گفتگو کرتے ہوئے صہیونی حکومت کے وزیراعظم بنیامین نتن یاہو کی جانب سے دی جانے والی دھمکیوں کا حوالہ دیا اور کہا کہ نتن یاہو کے ’’دادا‘‘، یعنی اسلامی انقلاب کے دوران گزشتہ 47 برس میں امریکہ کے مختلف صدور بھی اسی طرح کی بڑی بڑی دھمکیاں دیتے رہے ہیں، لیکن اپنی تمام تر صلاحیتیں استعمال کرنے کے باوجود ان میں سے کوئی بھی ایران کے خلاف کچھ نہیں کر سکا۔
انہوں نے کہا کہ نتن یاہو ایک مجرم شخص اور ایک مجرمانہ گروہ کے سربراہ ہیں، اس لیے ان کی بڑکیں اپنی جگہ، لیکن ہم اسے اس قدر معمولی سمجھتے ہیں کہ وہ ایران کی عظیم قوم اور ملک کے خلاف کسی کارروائی کی دھمکی دینے کے قابل بھی نہیں۔
سپاہ کے ترجمان نے دشمن کی مستقبل کی نفسیاتی اور شناختی جنگ کے بارے میں کہا کہ یہ جنگ اس بات پر منحصر ہوگی کہ ایران کس حد تک اس کا مقابلہ کرتا ہے۔ دشمن اپنی تمام فوجی طاقت کے ساتھ میدان میں اترا، مختلف قسم کے طیاروں، جدید ترین ٹیکنالوجی حتی کہ مصنوعی ذہانت کی ٹیکنالوجی کا بھی استعمال کیا، لیکن آخرکار بے بسی اور درماندگی کا شکار ہو کر مفاہمت اور معاہدے کی درخواست کرنے لگا۔ نفسیاتی جنگ کے میدان میں بھی یہی فارمولہ کارفرما ہے۔
آپ کا تبصرہ